07:23 , 21 اپریل 2026
Watch Live

امریکی اسٹیلتھ طیارہ ایف-35 ایران میں ہنگامی لینڈنگ پر مجبور

ایران نے امریکی ایف-35 کو کیسے نشانہ بنایا

ایران کے اوپر جاری فضائی کارروائیوں کے دوران ایک امریکی ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد اسے مجبوراً ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔ یہ پہلا موقع ہے جب ایران نے امریکی جدید طیارے کو کامیابی سے ہدف بنایا ہے اور اس واقعے کی تفصیلات چینی ماہرین نے تجزیہ کی ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایران نے امریکی ایف-35 کو کیسے نشانہ بنایا۔

چینی میڈیا کے مطابق ایران نے ممکنہ طور پر ایف-35 کے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت کو بائی پاس کرتے ہوئے الیکٹرو آپٹیکل اور انفراریڈ (EO/IR) سینسر سسٹمز استعمال کیے۔ یہ سینسر طیارے کی حرارت کو ٹریک کرتے ہیں اور ریڈار کی طرح سگنل خارج نہیں کرتے، جس سے اسٹیلتھ طیارے کے لیے پتہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

چینی پیپلز لبریشن آرمی کے ریٹائرڈ کرنل یوئے گانگ نے کہا کہ اگرچہ ایف-35 ریڈار کے خلاف مضبوط ہے، لیکن اس کی اسٹیلتھ صلاحیتیں انفراریڈ سینسر کے سامنے کمزور پڑ سکتی ہیں، جو طیارے سے خارج ہونے والی حرارت کا سراغ لگاتے ہیں۔ عسکری تجزیہ کار سونگ ژونگ پنگ نے بتایا کہ EO/IR سینسر برقی لہریں خارج نہیں کرتے، اس لیے طیارے کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران پر 22 دن سے جاری امریکہ اور اسرائیل کی جنگ

ماہرین کے مطابق ایران نے مہنگے S-300 نظام کے بجائے غالباً انفراریڈ گائیڈڈ میزائل استعمال کیے، جو ممکنہ طور پر روسی ساختہ R-27T ائیر ٹو ائیر میزائل موڈیفائیڈ شکل میں تھے۔ یہ میزائل طیارے کو جزوی نقصان پہنچاتے ہیں، جس کی وجہ سے ایف-35 ہنگامی لینڈنگ کر گیا اور مکمل تباہی سے بچ گیا۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے 1990 کی دہائی میں روس سے MiG-29 طیاروں کے ساتھ R-27T میزائل بھی حاصل کیے تھے۔ یہ میزائل 0.23 میٹر قطر کے ہیں اور آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ رفتار تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس واقعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران نے امریکی ایف-35 کو کیسے نشانہ بنایا اور ایران کی فضائی دفاع کی صلاحیتوں میں ترقی ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION